زیادہ کھانے کے نقصانات

0 Comments


 ہمارے کھانے پینے کا انداز حیران کن اور خوفناک ہے۔اول تو ہم ہر طرح کے کھائی جانے والی اور نہ کھائی جانے والی ساری ہی چیزیں کھاتے ہیں،دوسرا ہم انہیں اپنی فطری ضرورت اور طاقت سے کہیں زیادہ کھا لیتے ہیں۔ زیادہ کھانے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً

کبھی کبھار آپ کو بھوک تو بالکل نہیں ہوتی ،لیکن آپ کے دوست کا اصرار  ہوتا ہے کہ کھانا تیار ہے،کچھ نہ کچھ ضرور کھا لیجیے۔آپ مجبوری میں تکلفاً کھانے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔

آپ گھر سے تو پیٹ بھر کر کھا کر چلتے ہیں،لیکن راستے میں کسی لذیذ چیز پر نظر پڑ گئی تو اسے کھانے کا موقع ڈھونڈنے لگتے ہیں۔

کسی دوست کے ہاں دعوت میں جا تے ہیں تو یہ سوچنے کی کی زحمت کیے بغیر کھاتے چلے جاتے ہیں کہ پیٹ کی بھی کچھ حدود ہیں۔ لیکن ہمیں تو چسکے سے مطلب ہوتا ہے ، نتائج کچھ بھی ہوں ۔   

جوں ہی ہم کچھ زیادہ کھاتے ہیں ،ہماری طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے اور چلنے پھرنے میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔

لیکن  جولوگ اتنی واضح  باتیں نہیں سمجھ سکتے انہیں یہ بات سمجھانا اور بھی مشکل ہوتا ہے کہ ہاضم چیزیں وقتی طور پر تو انسان کی تکلیف کم کر دیتی ہیں لیکن یہ تکلیف بیج کے طور پر ان کے جسم میں موجود رہتی ہے اور آگے چل کر امراض کی شکل میں ان کے جسم کے اندر بڑے بڑے درخت پیدا کرتی ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہم لوگ اچھی طرح  سے جتنا کھانا ہضم کر سکتے ہیں،جب اس سے کہیں زیادہ  کھانا اپنے پیٹ میں بھر لیتے ہیں تو جو حصہ ہضم ہو جاتا ہے،اسے چھوڑ کر باقی غیر ہضم اور ادھ ہضم حصہ جب آنتوں کے ذریعہ نیچے اُترنے لگتا ہے اور اس میں سے بہت سے مضر اجزاء باہر نکلتے ہیں اور زہر میں تبدیل ہو کر ہمارے خون میں شامل  ہوجاتے ہیں۔

ان مضر اجزاء کے شامل ہونے سے ہمارا خون بگڑ جاتا ہے اور اس سے جسم میں طرح طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔خون  کےبگڑنے کی وجہ سے جسم میں امراض تو بعد میں پیدا ہوتے ہیں لیکن  سب سے پہلے فاسد مادے آنتوں کے نیچے جمع ہو جاتے ہیں، جن کے باعث قبض اور بعد میں دوسرے خوفناک امراض پیدا ہو تے ہیں۔ اس لئے بھوک سے زیادہ بالکل مت کھائیں۔

بھوک رکھ کر کھانے سے انسان بہت سی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔
جب ہم بہت زیادہ کھانا کھاتے ہیں تو،پیٹ  بڑھا ہو جاتا ہے اور ہر بار اتنے ہی کھانے کی طلب ہوتی ہے۔پھر جب کم خوراک لینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پریشانی ہو سکتی ہے۔اس کا حل یہ ہے دن میں تین سے چار  بار تھوڑا تھوڑا کھائیں ۔بہت زیادہ بھاری غذا کی بجائے سادہ کھانے کو ترجیح دیں۔کھاتے وقت صرف کھانے کے بارے میں سوچیں۔

کھانا کھاتے وقت موبائل فون  بالکل  استعمال نہ کریں کیونکہ اس صورت میں زیادہ کھانے کا خطرہ ہے۔ہلکی ترکاریوں سے کھانا شروع کریں،اس سے بھوک کم ہو گی اور آپ بہت کم کھائیں گے۔ چربی والے کھانوں سے مکمل پرہیز کریں۔ پھلوں،سبزیوں،اُبلی ہوئی مچھلی اور گوشت کو ترجیح دیں۔کھانے کے دوران یا  بعد بار بار پانی پینے سے عمل انہضام مشکل ہو جاتا ہے۔ لہذا کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے یا ایک گھنٹہ بعد میں پانی پینے کی روٹین بنائیں ۔ اس نصیحت پر عمل کرنے سے آپ موٹاپے اور پیٹ کے بھاری پن سے بھی بچ سکتے ہیں،ممکنہ طور پر وزن بھی کم ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بیکٹیریا کو ختم  کرنے کیلئے غذا کو اچھی طرح  سے پکانا ضروری ہے،تاہم اسے اتنا بھی نہیں پکانا چاہئے کہ تمام غذائیت ہی ختم ہو جائے۔غذا کو زیادہ پکانے سے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔گوشت کو زیادہ پکانے سے مضر صحت کیمیکلز پیدا ہو سکتے ہیں۔اسی طرح نشاستے سے بھرپور روٹی،اناج، یا دیگر اشیاء  کو زیادہ کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے،اس سے موٹاپا پیدا ہوتا ہے۔

آلوؤں کو ابال کر کھانا زیادہ مفید رہتا ہے۔ایک ہی کوکنگ آئل کو بار بار فرائی  کیلئے  استعمال نہ کیجئے۔اس سے نہ صرف کھانے کا ذائقہ متاثر ہوتا ہے بلکہ اس سے (پی اے ایچ) نامی کیمیکل بھی بنتا ہے جسے یورپی اداروں نے صحت کیلئے اچھا قرار نہیں دیا۔فرائی کیلئے فریش آئل  سے نہ صرف ذائقہ بہتر ہوتا ہے،بلکہ یہ صحت کے لئے بھی ضروری ہے۔

 

تیزی سے وزن کم کرنے کے لئے 6 مفید تجاویز

0 Comments




کیا آپ وزن کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ اگر آپ دلچسپی رکھتے  ہیں تو کیا آپ کو ایسا کرنے کی جلدی  بھی ہے؟ اگرچہ یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ  کوتیز ی سے  وزن کم کرنے کی کوشش نہیں  کرنی چاہئے  کیونکہ یہ آپ کی صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتا لیکن دراصل ایسا کرنے والے افراد غیر فطری طریقوں سے وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ کھانا بالکل چھوڑ دینااورادویات کا استعمال کرنا۔ اگر فطری انداز میں تیزی سے وزن کم کرنا چاہتے ہیں جس سے آپ کی صحت متاثر نہ ہو تو  اس مضمون کو پوراپڑھیں۔

 

جسم میں چربی  کی مقدار کو کم کرنے   یا  تیزی سے وزن میں کمی کرنےکے  بہت سے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپ جو کھاتے ہیں اس کی مقدار کو کم  کر دیں  ۔ جب آپ کھانے کی مقدار  کو کم کرتے ہیں تو  یہ ضروری ہے کہ مقدارکی یہ کمی حد سے زیادہ نہ ہو  ۔  آپ اپنی خوراک کو 50 فیصد تک  کم کر  سکتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ، بہت سارے افراد جو تیزی سے وزن میں کمی  کرنا چاہتے ہیں ، ان کا خیال  ہوتا ہے کہ انہیں صرف  تین دن تک کھانا  مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت ہے اور ان کا وزن کم ہو جائے گا۔ یہ ایسی چیز ہے جو آپ   کو نہیں کرنی چاہئے  ۔ کیونکہ جب آپ دوبارہ   کھانا  شروع کریں گے  تو سارا وزن پھر سے واپس آ جائے گا۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ خود کو بھوکا رکھنا  آپ کی صحت کے لئے  انتہائی خطرناک ہے۔

 

کھانے کی مقدار کو کم کرنے کے ساتھ ، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ مٹھائی یا جنک فوڈ کی مقدار کو کم کریں۔ تیزی سے وزن میں کمی کے لئے ، آپ کو اپنی غذا سے جنک فوڈ کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہئے  ،  او ر یہ بھی  مناسب نہیں ہو گا کہ آپ کسی وقت یہ سوچ کر جنک فوڈز استعمال کریں کہ بس آج کے لئے کھا لیتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ سنیکس لینا چاہتے ہیں تو آپ  ایک چاکلیٹ بار یا  چپس کے پیکٹ کی بجائے ایک سیب یا  کوئی اور پھل لے لیں۔ کینڈی اور دیگر مٹھائیوں میں  کیلوریز بہت زیادہ مقدار میں ہوتی ہیں  جو کہ وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہیں ۔ اپنی  غذاسے مٹھائیاں اور کینڈیز کو ختم کرنے سے  آپ  کیلوریز کی  بڑی مقدار کو اپنے کھانے سے ختم کر دیتے ہیں  ۔

 

ورزش ایک اور طریقہ ہے جس سے آپ تیزی سے وزن میں کمی  کرسکتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے لئے ورزش  سب سےبہترین عادت ہے لیکن اس عادت کوپختہ کرناتھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ ورزش  کرنے سے فوری طور پر آپ کو وزن میں کمی کا کوئی خاص اثر محسوس نہیں ہوگا۔ زیادہ ترافرادکو اپنے  وزن میں کمی  محسوس ہونے  کے لئے ایک سے دوہفتے لگ سکتے ہیں ۔عام طور پر زیادہ تر افراد    کوورزش کے استعمال سے اپنے وزن میں کمی  محسوس ہونے  میں کم از کم ایک یا دو ہفتے لگتے ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ورزش جاری رکھیں   کہ آپ کا وزن  جتنا زیادہ  ہے  اتنا یہ کم بھی ہو گا  ، اور وہ بھی انتہائی تیزی سے۔

 

وزن کم کرنے کے  مقصد کو  مدنظر رکھتے ہوئے  ، ورزش کرنا ضروری ہے  کیونکہ یہ آپ کی کیلوریز کی مقدار کو محدود کرنے میں مدد کرتی ہے۔ جب آپ ورزش کے استعمال سے کیلوریز کو جلا دیتے ہیں تو  آپ کا جسم کم کیلوریز جذب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے لئے وزن کم کرنا ممکن ہے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ آپ  شروع سے ہی   زیادہ سے زیادہ ورزش کرنا شروع کردیں  ، لیکن ، آپ کو چاہئے کہ  ایسا کرنے سے باز رہیں ۔ اگر آپ عام طور پر جسم کو زیادہ تحریک نہیں دیتے تو  سست آغاز کرنا ہی بہتر ہے۔ورنہ تین چاردن کے بعد آپ اپنی عادت کو ترک کر سکتےہیں  کیونکہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے ۔

 

وزن میں تیزی سے کمی  کرنے کے  بہت سے طریقوں میں سے ایک  صافی کا استعمال  ہے۔ ان صافیوں کو عام طور پر بڑی آنت کی صفائی یا وزن میں کمی کی صفائی کہا جاتا ہے۔  صافیاں آپ کے  جسم سے زہریلے اور اضافی وزن   کو  ضائع کرکے جسم کو صاف  کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر افراد کے جسموں میں کم از کم سات یا آٹھ پاؤنڈ فضلہ ذخیرہ ہوتا ہے۔ بڑی آنت صاف کرنے سے آپ کے جسم میں موجود زہریلے مواد کو نکالنے میں مدد ملتی ہے  جس سے  یقینی طور  تیزی سے وزن کم ہوتا ہے ۔

 

تیزی سے وزن کم کرنے کے لئے آپ کو یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرنی چایئے کہ آپ  بڑی آنت کی کلینزنگ    کریں  تاکہ آپکو تیزی سے وزن کم کرنے کے مشن میں کامیابی مل سکے ۔ بڑی آنت کی صفائی کے لئے  دی گئی تمام ہدایات کو  پڑھنا  انتہائی اہم ہے ۔ کچھ صافیوں  میں غذا کا سخت پلان  ہوتاہے جس پر  آپ کو عمل کرنا چاہئے۔ وزن میں کمی  کے لئے گولی کی بجائے مائع صافیوں  کا استعمال کریں  کیونکہ وہ اکثر تیز ترین نتائج پیش کرتی ہیں۔

 

مذکورہ بالا وزن میں کمی کے اشارے آپ کو تیزی سے وزن کم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں  بھلے یہ تھوڑا ہی ہو۔ ایک یاد دہانی کے طور پر ، احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے۔ اگرچہ آپ کے لئے وزن کم کرنے کا مقصد تیز رفتاری سے حاصل کرنا زیادہ ممکن ہے ، لیکن یہ آپ اور آپ کی صحت کے لئے بھی خطرناک ہوسکتا ہے۔

  

اتنی توانائی کیسے بڑھائیں ------- کہ کام کرتےہی جائیں

0 Comments

 


 

کیا آپ کو توانائی کا بحران درپیش ہے؟

ہم میں سے اکثر افراد صبح بیدار ہوتے ہی تھکن محسوس کرتے ہیں اور جب تک وہ چائے نہ پی لیں، ان میں وہ توانائی نہیں آتی جو صبح کو محسوس ہونی چاہیے۔باقی دن بھی وہ سستی اور کسل مندی محسوس کرتے ہیں اور کبھی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اکثر افراد صبح سے دوپہر تک بغیر توانائی کے کام کرتے رہتے ہیں،لیکن دن کے کھانے کے بعد کمزوری غالب آجاتی ہے۔

تین بجے ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ کوئی انھیں دھکیل کر کام کرائے۔اس کیفیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور آدھی رات تک نیند کو ترستے ہیں۔توانائی کا مطلب کیا ہے؟توانائی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے جسم میں طاقت موجود ہو،ذہن مستعد ہو اور آپ کے دل میں کام کرنے کی خواہش ہو۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ توانائی ہی زندگی ہے۔ کسی کے جسم سے توانائی ختم کر دی جائے تو وہ گوشت پوست کی گٹھڑی نظر آئے گا۔ 

تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ اگرچہ توانائی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے،تاہم ایسی تدابیر ہیں کہ توانائی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔نیند،ورزش،جوش و خروش اور غذا ایسی چیزیں ہیں،جو توانائی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

نیند
نیند میں معمولی کمی بھی ہماری کارکردگی کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہے۔اگر ایک گھنٹہ نیند سے گھٹایا جائے تو کارکردگی 20 فیصد کم ہو جاتی ہے، لیکن تخفیف صرف اسی ایک گھنٹے تک محدود نہیں ہوتی،بلکہ آئے دن ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔

اس پر لوگ کافی اور چائے بھی زیادہ پیتے ہیں اور اس طرح نیند کا راستہ روک دیتے ہیں۔جس طرح نیند کی کمی طاقت کو گھٹاتی ہے،اسی طرح زیادہ نیند طاقت کو بڑھاتی ہے۔اگر زیادہ نیند لینی ہو تو ایک گھنٹہ پہلے سو جائیے،لیکن جو لوگ ہفتے اور اتوار کی صبح بہت دیر تک سوتے رہتے ہیں،ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔آپ پہلے سو جائیں اور پہلے جاگیں تو چاق چوبند رہیں گے۔

ورزش
ورزش سے تھکن نہیں پیدا ہوتی،بلکہ طاقت پیدا ہوتی ہے۔نیند سے جسم کے کئی نظاموں کو فائدہ پہنچتا ہے،تناؤ کم ہوتا ہے تو ورزش کے بعد آدمی اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق 10 منٹ تک پیدل چلنے اور دوڑنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہم اپنے جسم کو زیادہ اوکسیجن پہنچاتے ہیں۔اس طرح آپ ہفتے میں کم از کم پانچ دنوں کا باقاعدہ ورزش کا پروگرام بنائیں۔

بیٹھے رہنے کی کاہلی کو دور کرنے کے لئے آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ لفٹ کے بجائے پیدل چل کر سیڑھیاں چڑھیں۔
جوش و خروش
ہمارے مزاج اور رویے کا تعلق دماغ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزاء سے ہوتا ہے۔ان کیمیائی اجزاء میں ہونے والی تبدیلی سے توانائی بھی متاثر ہوتی ہے۔مثال کے طور پر اگر آپ کو کوئی چیلنج درپیش ہو تو آپ کی توانائی فوراً بڑھ جاتی ہے،کیونکہ آپ کو اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

فکر اور دباؤ اگر لمبی مدت تک رہیں تو توانائی کم ہو جاتی ہے۔اگر آپ پُر امید ہوں اور آپ میں جوش و خروش ہو تو توانائی بڑھ جاتی ہے۔جوش و خروش اور امیدوں کو بڑھانے کے لئے چند تدابیر ذیل میں درج کی جا رہی ہیں۔

تبادلہ خیال کیجیے:

جب آپ پر کام کا بوجھ زیادہ ہو یا توانائی کم ہو گئی ہو تو اپنے کمرے کی تنہائی میں بند ہو کر نہ بیٹھیں۔آپ اپنے جیون ساتھی سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

اپنے گہرے دوست سے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔اس سے امید کو تقویت ملے گی،جوش و خروش پیدا ہو گا اور فرحت حاصل ہو گی۔

کسی کی مدد کیجیے:

ماہرین کے مطابق مدد کرنے والے کا خود پر اعتماد بڑھتا ہے اور اس سے توانائی اور بھلائی کے احساسات کو تحریک ملتی ہے۔یہ احساسات دماغ کے کیمیائی اجزاء سے ایسے سیالات خارج کرتے ہیں،جن سے آپ کی امیدوں اور جوش و خروش میں تازگی آتی ہے۔

مثبت پہلو کو سوچیں:
منفی پہلو قنوطیت پیدا کرتے ہیں اور مثبت پہلوؤں پر غور کرنے سے ذہنی تناؤ کم ہو جاتا ہے۔اس سے گردش خون زیادہ ہوتی ہے اور توانائی کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔توانائی استعمال کرنے سے ختم نہیں ہوتی۔توانائی ایک لامحدود خزانہ ہے۔ایک بار آپ اس کو پیدا اور بیدار کر لیں تو پھر اسے مثبت طریقے سے خرچ کریں،اس طرح اس کی سطح کم نہیں ہو گی۔

غذا
گاڑی ایندھن سے چلتی ہے۔آپ کے جسم کی گاڑی کا ایندھن آپ کی غذا ہے۔غذا کی سینکڑوں قسمتیں ہیں۔بعض غذائیں دوسری غذاؤں سے بہتر ہوتی ہیں۔
مرکب نشاستے والی غذائیں کھائیے:
ان سے مراد گیہوں،چاول،جو،باجرہ،مکئی،گندم کی ڈبل روٹی اور آلو ہیں۔انھیں ”مرکب“ اس لئے کہتے ہیں کہ ان میں نشاستے (کاربوہائیڈریٹ) کے علاوہ دوسرے غذائی اجزاء بھی ہوتے ہیں۔

حیاتین (وٹامنز) سبزیوں اور پھلوں سے حاصل کریں۔سب کو معلوم ہے کہ حیاتین ج (وٹامن سی) رس دار پھلوں اور پتے والی سبزیوں میں پائی جاتی ہے۔حیاتین ب (وٹامن بی) براؤن چاول اور پتے والی سبزیوں میں ہوتی ہے۔اسی طرح پوٹاشیئم اور میگنیزیئم لوبیا،آلو،پتے والی سبزیوں اور پھلوں میں پائی جاتی ہے۔
فولاد انجیر،آلو بخارا،کشمش،لوبیا،پتے والی سبزیوں،مچھلی اور گوشت میں پایا جاتا ہے۔

فولاد اوکسیجن کو خلیات (سیلز) تک پہنچاتا ہے۔ چکنائی اور چربی والی غذائیں کم سے کم کھائیے۔تلی ہوئی چیزیں نہ کھائیں۔بہت زیادہ روغنی غذائیں نہ کھائیں۔حلوے اور پیسٹریاں نہ کھائیں۔اسی طرح زیادہ مقدار میں کافی اور کولا مشروبات پینے سے بھی بچیں۔
شکر پر نظر رکھیں۔شکر پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔مشروبات کم پییں۔شکر سے بننے والی غذائیں کم سے کم کھائیں۔

شکر خالص نشاستہ ہے۔وہ آپ اپنی غذا میں پہلے ہی کھا رہے ہیں،اس لئے مزید شکر کی ضرورت نہیں۔
توانائی کے لئے لحمیات (پروٹینز) والی غذائیں کھائیں۔لحمیات زیادہ چکنائی والی بھی ہوتی ہے (مثلاً چکنائی گوشت) اور کم چکنائی والی بھی ہوتی ہے۔
آپ کم چکنائی والی لحمیات کھائیں۔سفید گوشت (مچھلی اور مرغی یا بالکل روکھا گوشت) زیادہ کھائیں،کم چکنائی والا پنیر کھائیں۔

دودھ اور دہی کی بالائی کھانے سے پرہیز کریں۔
توازن
ان تمام تدابیر کا ماحصل یہ ہے کہ آپ ان پر عمل کرکے اپنی توانائی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔جو انھیں نہیں جانتے،ان کے لئے یہ راز ہیں اور جو جانتے ہیں،ان کے لئے حقیقتیں ہیں۔یہ آپ کے جسم و جاں کی مشین کی کنجیاں ہیں۔ان کا کھانا جوانی،ادھیڑ عمر اور بڑھاپا تینوں کے لئے مفید ہے۔


طویل اور صحت مند زندگی گزارنے کے سات راز

0 Comments


 جدید میڈیکل ٹیکنالوجی جتنی بھی اچھی ہو ، یہ آپ کو کبھی بھی غیر صحت مند طرز زندگی کی وجہ سے ہونے والی پریشانیوں سے نہیں بچاسکتی ۔ ہر مسئلے کے   حل کے لئے  جدید میڈیکل کی طرف بھا گنے کی بجائے ، اس طرح زندگی گزارنا کہیں بہتر ہے جس کی بدولت آپ شایدہی کبھی بیمار ہوں۔

پرہیز کا ایک اونس یقینی طور پر علاج کے ایک پاؤنڈ سے بہتر ہے۔ طویل اور صحتمند زندگی بسر کرنے کےلئے سات اصولوں کواپنی زندگی کا حصہ بنا لیں  تو آپ شاید ہی کبھی بیمار ہوں ۔سات اصولوں پر قائم یہ طرزِ زندگی آپ کو بیماری سے بچنے میں مدد کرتا ہے اور موٹاپے سے بچاتا ہے جو تمام مسائل اور بیماریوں کی جڑ ہے۔     

1. مناسب ورزش کریں

ماضی میں لوگوں کو اپنے جسم کو  معمول کے کام کے دوران استعمال کرنا پڑتا تھا۔ لیکن آج لوگ صبح اٹھتے ہیں ،  کار میں بیٹھ کر آفس جاتے ہیں ، کرسی پہ بیٹھ کر کام کرتے ہیں ، اور دوبارہ کار پہ بیٹھ کر گھرآ جاتے ہیں  ،اور باقی سارا وقت بھی  بیٹھ کر گزار دیتے ہیں ۔ ایسی زندگی میں جسمانی مشقت نہیں ہوتی۔ یہ جسمانی  سستی  ،  بیماریوں کی ایک بڑی تعداد  کی بنیادی وجہ  بن جا تی ہے۔ اگر روز مرہ کے کاموں  زندگی میں  جسمانی دوڑ دھوپ شامل نہیں  تو پھر کسی کھیل یا ورزش کو ہماری  زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہئے ۔


2۔جب آپ کو نیند آئے  تو سو جائیں

یہ بات بہت سادہ سی محسوس ہوتی  ہے ، لیکن بہت سے لوگ رات کو دیر تک جاگتے رہتے ہیں  جبکہ ان کا جسم انہیں بتا رہا ہوتا ہے کہ یہ سونے کا وقت ہے ۔ یوگا اور آیورویدک ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رات کو سونا بہتر ہے اور دن میں سرگرم رہنا ۔ تاہم ،  بعض  لوگ جیسے طلباء  جو  رات گئے تک مطالعے کے لئے کافی یا چائے پیتے ہیں ۔ لیکن بہت  سے  دوسرے لوگ رات کو فعال رہنے اور دن میں سونے کی عادت بنا لیتے ہیں ۔ اگرچہ ہم یہ کر سکتے ہیں ، لیکن  اس کے نتیجے میں صحت  بہت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ میڈیکل  ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر فطری زندگی کینسر اور دیگر بیماریوں کا سبب  بننے  میں ایک اہم عنصر ہے۔

3۔ جب آپ بھوک محسوس کریں تو کھانا کھائیں ۔

یہ بھی ایک سادہ سا خیال ہے ، لیکن اس میں  ایک بار پھر ہم جسم کے پیغامات کے خلاف جاتے ہیں۔ اگرہم  عادت سے ہٹ کر  کھاتے ہیں یا  دن کے کسی  مخصوص وقت پر معاشرتی دباؤ کی وجہ سے  کھاتے ہیں  جبکہ  ہمیں  حقیقی بھوک  بھی نہیں ہوتی  ، تو ہمارا  نظامِ انہضام   اُس کھانے کو ہضم نہیں کرتا جس سے تیزابیت اور بد ہضمی شروع ہوجاتی ہے ، اور اس سے دیگر پیچیدہ بیماریوں کو جسم میں  جڑ پکڑنے میں  مدد ملتی ہے۔ بھوک  رکھنا  دراصل اچھی صحت کی علامت ہے ، لیکن اگر آپ کو بھوک نہیں ہے تو آپ کو تھوڑا سا انتظار کرنا چاہئے اور پھر کھانا چاہئے۔ (معقول وقت کے انتظار کے بعد بھی اگر آپ کو بھوک نہیں ہے تو ، آپ کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہئے کیونکہ پھر آپ کو کوئی مسئلہ  ہے۔)

4۔ منظم انداز میں باقاعدگی  سے   روزہ رکھنا

اگر آپ کسی بھی شخص کو بغیر کسی آرام کے سال کے  365 دن کام کرنے کو کہتے  ہیں تو وہ شکایت کرتا  ہے  اور کہتا کہ اُسے کچھ آرام  چاہئے ورنہ وہ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن ہم نے اپنے ہاضم اعضاء سے پوچھنے یا اس کے بارے میں سوچنے کی کبھی زحمت نہیں کی  جن کو ہم دن رات کام کرنے پر مجبور  کرتے ہیں۔ وہ اس طرح سے احتجاج نہیں کرسکتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے باس سے کرسکتا ہے ، لیکن وہ ہمیں اشارے دیتے ہیں کہ وہ بغیر رکے کام نہیں کرسکتے ۔ جب ہم ان اشاروں کو نظرانداز کرتے ہیں اور  انہیں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو وہ اعضاء ٹوٹ جاتے ہیں۔ اسی لئے وقتا فوقتا روزہ رکھنا ضروری ہے۔ ایک پورا دن کھانے سے پرہیز کریں۔ اس سے آپ کے ہاضم اعضاء کو آرام ملتا ہے اور آپ کے جسم میں پیدا ہونے والے کچرے کو ختم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ باقاعدگی سے روزہ رکھنے سے انسان فکری یا روحانی سکون کے حصول کے لئے اضافی وقت حاصل کرسکتا ہے۔ روزہ  صرف مذہبی لوگوں کے لئےنہیں ہے  بلکہ  یہ ایک  صحت بخش فعل  ہے جس پر کوئی بھی عمل کرسکتا ہے۔

5۔سونے سے پہلے ٹھنڈے پانی سے استنجا  اور وضوکریں  ۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ، صحت کی بحالی کے لئے مناسب نیند ضروری ہے۔ اگر آپ ٹھنڈے پانی کا استعمال کرتے ہوئے سونے  سے پہلے استنجا  اور وضو کرتے ہیں  تو آپ کو سکون ملے گا اور آپ کو گہری نیند کے لئے تیار کرے گا۔

6۔مستقل بنیاد پر مراقبہ کریں

آپ کا جسم آپ کے دماغ سے منسلک ہے۔ اس دور کی بہت سی بیماریاں نفسیاتی ہیں۔ تناؤ اور اضطراب ہماری جسمانی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ مراقبہ ایک ذہنی ورزش ہے جو دوسری چیزوں کے علاوہ ، آپ کو زندگی کی پریشانیوں سے خود کو الگ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔  مراقبہ ایک آسان تکنیک ہے ، اِسے  سیکھیں اور باقاعدگی سے کریں۔

7. صبح  جلدی اٹھیں

ایک بار پھر پرانی انگریزی کہاوت ، Early to bed, early to rise makes a person healthy, wealthy and wise.”   مجھے نہیں معلوم کہ یہ آپ کو مالدار بنائے گا یا نہیں ، لیکن یہ یقینی طور پر آپ کو صحت مند بنائے گا۔ آپ کے جسم کو مناسب  نیند کی ضرورت ہے ، نہ بہت  زیادہ  اور نہ ہی  بہت کم ۔

ان اصولوں پر  عمل کرنے سے آپ ہمیشہ  کامیاب اورصحت مند زندگی گزاریں گے ۔

 

زیتون کے تیل کے حیرت انگیز فوائد ۔۔۔۔ خوبصورتی بھی صحت بھی

0 Comments

 


زیتون ایک درخت ہے جس کا پھل زیتونہ کہلاتا ہے، اُس پھل سے جو تیل حاصل کیا جاتا ہے اُسے روغنِ زیتون کہاجاتاہے۔ زیتون اور روغنِ زیتون کے بے شمار طبی خواص اور فوائد ہیں۔ اسے خوب صورتی میں اضافے اور طبی مسائل کے حل کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہم زیتون کے تیل میں کئی قسم کے کھانے بناتے ہیں اور اس کی وزن کو کم کرنے کی خصوصیات کی وجہ سے اسے سلاد میں شامل کر کے اپنی ڈائٹ کا حصہ بھی بناتے ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جتنا یہ تیل آپ کے کھانوں میں استعمال کے لئے مفید ہے اتنا ہی زیادہ آپ کے جسمانی اعضاء کے لئے بھی اس کا استعمال بہت ضروری ہے۔
آج ہم آپ کو بتائیں گے زیتون کے تیل کا ایسا استعمال جس سے آپ کر سکیں گے اپنی جسمانی خوبصورتی میں اضافہ وہ بھی بہت آسانی سے تو چلیں پھر جان لیتے ہیں کہ زیتون کے تیل کے استعمال سے ہم کیسے اپنی خوبصورتی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔


خوبصورتی میں اضافے کے لئے زیتون کے تیل کا استعمال

• ہاتھ اور پاؤں کی حفاظت

آپ کے ہاتھوں اور پیروں کی حفاظت کے لئے زیتون کے تیل کا استعمال بہت ضروری ہے، اگر آپ کے ناخن بے رونق اور چمکدار نہیں ہیں یا پھر آپ کی ایڑیاں پھٹی ہوئی ہیں تو بس زیتون کے تیل سے ان تمام مسائل کا آسان حل ممکن ہے بس رات سوتے وقت اس تیل سے اچھی طرح ہاتھ اور پاؤں کی مالش کریں ناخنوں کا بھی مساج کریں پھر دیکھیں اس کا کمال۔

• بالوں کی حفاظت

کیا آپ کے دو منہ والے بال ہو رہے ہیں یا پھر یہ بےجان اور روکھے ہو رہے ہیں تو بس پھر پریشان نہ ہوں صرف زیتون کے تیل کا باقاعدگی سے استعمال ہی اس مسئلے کے حل کے لئے کافی ہے، رات سوتے وقت زیتون کا تیل لگائیں صبح اُٹھ کر نہا لیں، یا پھر اپنے شیمپو اور کنڈشنر میں چند قطرے زیتون کا تیل شامل کر لیں بس پھر بھول جائیں بالوں کا ہر مسئلہ۔

• چہرے کی حفاظت

اگر آپ کے چہرے پر دانوں کے نشانات ہیں یا پھر آپ کے چہرے کے مسام کھل گئے ہیں اور گالوں پر گڑھے واضح نظر آتے ہیں تو اس کے لئے زیتون کے تیل کے چند قطروں میں چینی ملا کر اس کو چہرے پر ملیں اور اچھی طرح مساج کریں پھر دیکھیں کیسے آپ کے چہرے پر زیتون کے تیل کا فائدہ نظر آتا ہے۔

• ہونٹوں کی حفاظت

ہونٹ کالے ہیں یا پھر بہت خشک اور اس وجہ سے پھٹنے بھی لگے ہیں تو ایک ڈبیا میں تھوڑا زیتون کا تیل ڈال کر اس میں چند قطرے لیموں کا رس ملائیں اور اس کو بار بار ہونٹوں پر استعمال کریں، ہونٹ نرم و ملائم اور گلابی ہو جائیں گے۔


زیتون کے طبی فوائد

1۔زیتون کے تیل کی ماش کرنے سے اعضاء کوقوت حاصل ہوتی ہے ۔

2۔ پٹھوں کا درد ختم ہو جاتا ہے اور عرق النساء کا بہترین علاج ہے۔

3۔ زیتون کے تیل کو مرہم میں شامل کرکے لگانے سے زخم بھر جاتے ہیں۔

4۔ ناسور کو مندمل کرنے میں زیتون سے بڑھ کر کوئی دوائی بہتر نہیں۔

5۔ زیتون کا تیل تیزابیت کو ختم کرتا ہے۔

6۔ معدہ میں کینسر یا زخم کی صورت میں زیتون کے تیل کا استعمال شافی علاج ہے۔

7۔ خالی پیٹ زیتون کا تیل کھانے سے سے معدہ کےزخم ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔

8۔  بدن کی خشکی کو دور کرنے اور جلدی امراض مثلاً چنبل اور خشک گنج میں مفید ہے ۔

10۔ سانس کے ہر قسم کے امراض بہترین علاج ہے ۔

11۔ دمہ کے مرض کا اس سے بہتر کوئی علاج نہیں۔

12۔ انفلوئنزا اور نمونیہ کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتا ہے۔

13۔ زیتون کا تیل کلونجی میں ملا کر ناک میں ڈالنا نکسیر کے لئے مفید ہے ۔

 

مردوں کے جنسی مسائل

0 Comments


جنسی عمل  کے کسی بھی مرحلے پر جنسی پریشانی ، یا جنسی خرابی ،سے مراد ہے  ایسا  جنسی مسئلہ ہے جو  جوڑے کو جنسی سرگرمی کا اطمینان کا سامنا کرنے سے روکتا ہے۔ جنسی عمل کے چار مرحلے ہوتے ہیں: جوش و خروش ،  تناؤ  ، آرگیزم ، اور  سکون ۔

اگرچہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جنسی خرابی عام ہے (43٪ خواتین اور 31٪ مرد کسی حد تک اس مسئلےسےدوچارہیں ) ، یہ ایک ایسا عنوان ہے جس پر بہت سارے لوگ بحث کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ، جنسی خرابی  کے زیادہ تر معاملات قابل علاج ہیں ، لہذا اپنے جیون ساتھی  اور ڈاکٹر کو اپنے خدشات بتانا ضروری ہے۔

 

جنسی مسائل کی وجوہات کیا ہیں؟

جنسی عمل جسمانی یا نفسیاتی حالت کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

جسمانی وجوہات: بہت سے جسمانی  یا  طبی حالات جنسی فعل میں دشواری کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان حالات میں ذیابیطس ، دل اور عروقی (خون کی نالی) کی بیماری ، اعصابی عوارض ، ہارمونل عدم توازن ، دائمی بیماریاں  جیسے گردے یا جگر کی خرابی ، اس کے علاوہ  شراب نوشی اور منشیات کا استعمال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ، کچھ دوائیوں کے ضمنی اثرات ، بشمول کچھ  ڈپریشن  روکنے والی دوائیں ، جنسی خواہش اور جنسی عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔

نفسیاتی وجوہات: ان میں کام سے متعلق تناؤ اور اضطراب ، جنسی کارکردگی سے متعلق تشویش ، ازدواجی  تعلقات کے مسائل ، افسردگی ، جرم کے احساسات اور ماضی کے جنسی صدمے کے اثرات شامل ہیں۔

 

جنسی پریشانیوں سے کون متاثر ہوتا ہے؟

مرد اور عورتیں دونوں ہی جنسی پریشانیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ جنسی  پریشانی ہر عمر کے بالغوں میں ہوسکتی ہے۔ عام طور پر متاثر ہونے والوں میں بزرگ بھی شامل  ہوتے ہیں ، جو عمر بڑھنے کی  وجہ صحت کی خرابی کےباعث اس پریشانی کاشکار ہوتےہیں۔

 

جنسی مسائل مردوں کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟

مردوں میں سب سے زیادہ عام جنسی مسائل انزال کی خرابی ، عضو تناسل میں تناؤ کا مسئلہ  ، اور جنسی خواہش کو روکنا ہیں۔

 

انزال کی  خرابی کی شکایت کیا ہیں؟

انزال میں مختلف قسم کے امراض ہیں ، جن میں شامل ہیں:

 

قبل از وقت انزال۔ اس سے مراد  وہ انزال ہوتا ہے جو دخول سے پہلے یا  دخول کے فورا بعدہو جاتا ہے۔

 مانع انزال - یہ تب ہوتا ہے جب انزال سست ہوتا ہے۔

الٹا  انزال - یہ اس وقت ہوتا ہے جب عضو تناسل میں ، انزال کو پیشاب کی نالی کے ذریعے عضو تناسل کے راستے سےخارج کرنےکی بجائے مثانے میں واپس جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

 

قبل از وقت انزال ، مردوں میں جنسی خرابی  کی سب سے عام شکل ہے جو  اکثر  اس گھبراہٹ کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ جنسی  عمل کے دوران کتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن وجوہات اکثر واضح نہیں ہوتی ہیں۔ کچھ معاملات میں ، قبل از وقت اور  سست انزال  بیوی کی طرف راغب ہونے کی کمی ، ماضی کے تکلیف دہ واقعات اور نفسیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ کچھ دوائیں ، بشمول کچھ  مانع ڈپریشن  ، انزال کو متاثر کرسکتی ہیں  اور ریڑھ کی ہڈی یا کمر کو اعصابی نقصان پہنچا سکتی  ہیں۔

 

ذیابیطس کے شکار مرد  جو اعصابی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں ، ان میں الٹا  انزال عام ہے۔ اس کی وجہ مثانے اور مثانے کی گردن میں موجود اعصاب کے ساتھ مسائل  ہوتے ہیں جو انزال کو پیچھے  کی طرف اور مثانے میں بہنے دیتے ہیں۔ دوسرے مردوں میں ، مثانے کی گردن یا  غدود کے آپریشن ،  یا پیٹ کے بعض آپریشنز کے بعد  انزال کی یہ خرابی شروع ہوتی ہے  ۔ اس کے علاوہ ، کچھ دوائیں ، خاص طور پر وہ جن کی وجہ سے موڈ کی خرابی کا علاج ہوتا ہے ، انزال کی  اس پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ عام طور پر اس کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی جب تک کہ وہ تولیدیت میں خرابی پیدا نہ کرئے

 

نامردی کیا ہے؟

نامردی  سے مراد عضو تناسل کا جماع کے لئے تناؤ کی موزوں  کیفیت نہ ہو نا ہے۔ عضو تناسل کی علت کی وجوہات میں خون کے بہاؤ کو متاثر کرنے والی بیماریاں شامل ہیں ، جیسے ایتھروسکلروسیس (شریانوں کی سختی)؛ اعصابی عوارض یعنی  نفسیاتی عوامل ، جیسے دباؤ ، افسردگی ، اور کارکردگی کی بے چینی (جنسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی  اہلیت نہ ہونے کا خوف )؛ اور عضو تناسل کو پہنچنے والی کوئی چوٹ ، کچھ دوائیں اور ایک ایسی حالت جسے پیرونی بیماری (عضو تناسل پہ پیدا ہونےوالا غدود جو اُسے ٹیڑھا کرنے کاسبب بن جاتا ہے )  کہا جاتا ہےبھی عضو تناسل کی ایستادگی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

 

جنسی طلب کے فقدان سےکیا مراد ہے؟

شہوت سے بیزارگی  یا جنسی طلب کے  فقدان سے مرادجنسی خواہش میں کمی  یا عدم دلچسپی ہے ۔ جسمانی یا نفسیاتی عوامل اس جنسی طلب کے فقدان  کی وجہ ہوسکتےہیں ۔ یہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی نچلی سطح سے وابستہ ہے۔ یہ مسئلہ  نفسیاتی عوارض  جیسے پریشانی اور افسردگی ۔ طبی امراض ، جیسے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر،کچھ ادویات اور میاں بیوی کےتعلقات میں موجود تناؤ کے سبب بھی ہوسکتا ہے ۔

 

مرد وں کے جنسی مسائل کی تشخیص کس طرح کی جاتی ہے؟

مردوں کے جنسی مسئلے کی تشخیص کے لئے ، ڈاکٹر ممکنہ طور پر علامات کی مکمل ہسٹری  کےساتھ شروع کرتےہیں ۔ وہ جنسی  خرابی کا علاج کرنے کےلئے ممکنہ طور  کسی  دوسری  طبی پریشانی کا علاج کرنےلئےٹیسٹس کر سکتے ہیں  جو ان کےخیال جنسی مسئلےکی وجہ ہوسکتی ہے ۔ ڈاکٹر آپ کو دوسرے ڈاکٹرز ، بشمول یوروولوجسٹ (پیشاب کی نالی اور مردانہ تولیدی نظام میں ماہر) ، اینڈو کرینولوجسٹ (ہارمونل ایشوز میں ماہر ) ، نیورولوجسٹ (اعصابی نظام میں  ماہر ) ، جنسی معالجوں  کے پاس بھیج سکتا ہے۔

جنسی عمل  کے کسی بھی مرحلے پر جنسی پریشانی ، یا جنسی خرابی ،سے مراد ہے  ایسا  جنسی مسئلہ ہے جو  جوڑے کو جنسی سرگرمی کا اطمینان کا سامنا کرنے سے روکتا ہے۔ جنسی عمل کے چار مرحلے ہوتے ہیں: جوش و خروش ،  تناؤ  ، آرگیزم ، اور  سکون ۔

اگرچہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جنسی خرابی عام ہے (43٪ خواتین اور 31٪ مرد کسی حد تک اس مسئلےسےدوچارہیں ) ، یہ ایک ایسا عنوان ہے جس پر بہت سارے لوگ بحث کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ، جنسی خرابی  کے زیادہ تر معاملات قابل علاج ہیں ، لہذا اپنے پارٹنر اور ڈاکٹر کو اپنے خدشات بتانا ضروری ہے۔

 

جنسی مسائل کی وجوہات کیا ہیں؟

جنسی عمل جسمانی یا نفسیاتی حالت کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

جسمانی وجوہات: بہت سے جسمانی  یا  طبی حالات جنسی فعل میں دشواری کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان حالات میں ذیابیطس ، دل اور عروقی (خون کی نالی) کی بیماری ، اعصابی عوارض ، ہارمونل عدم توازن ، دائمی بیماریاں  جیسے گردے یا جگر کی خرابی ، اس کے علاوہ  شراب نوشی اور منشیات کا استعمال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ، کچھ دوائیوں کے ضمنی اثرات ، بشمول کچھ  ڈپریشن  روکنے والی دوائیں ، جنسی خواہش اور افعال کو متاثر کرسکتے ہیں۔

نفسیاتی وجوہات: ان میں کام سے متعلق تناؤ اور اضطراب ، جنسی کارکردگی سے متعلق تشویش ، ازدواجی  تعلقات کے مسائل ، افسردگی ، جرم کے احساسات اور ماضی کے جنسی صدمے کے اثرات شامل ہیں۔

 

جنسی پریشانیوں سے کون متاثر ہوتا ہے؟

مرد اور عورتیں دونوں ہی جنسی پریشانیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ جنسی  پریشانی ہر عمر کے بالغوں میں ہوسکتی ہے۔ عام طور پر متاثر ہونے والوں میں بزرگ بھی شامل  ہوتے ہیں ، جو عمر بڑھنے کی  وجہ صحت کی خرابی کےباعث اس پریشانی کاشکار ہوتےہیں۔

 

جنسی مسائل مردوں کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟

مردوں میں سب سے زیادہ عام جنسی مسائل انزال کی خرابی ، عضو تناسل میں تناؤ کا مسئلہ  ، اور جنسی خواہش کو روکنا ہیں۔

 

انزال کی  خرابی کی شکایت کیا ہیں؟

انزال میں مختلف قسم کے امراض ہیں ، جن میں شامل ہیں:

 

قبل از وقت انزال۔ اس سے مراد  وہ انزال ہوتا ہے جو دخول سے پہلے یا  دخول کے فورا بعدہو جاتا ہے۔

 مانع انزال - یہ تب ہوتا ہے جب انزال سست ہوتا ہے۔

الٹا  انزال - یہ اس وقت ہوتا ہے جب عضو تناسل میں ، انزال کو پیشاب کی نالی کے ذریعے عضو تناسل کے راستے سےخارج کرنےکی بجائے مثانے میں واپس جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

 

قبل از وقت انزال ، مردوں میں جنسی خرابی  کی سب سے عام شکل ہے جو  اکثر  اس گھبراہٹ کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ جنسی  عمل کے دوران کتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن وجوہات اکثر واضح نہیں ہوتی ہیں۔ کچھ معاملات میں ، قبل از وقت اور  سست انزال  بیوی کی طرف راغب ہونے کی کمی ، ماضی کے تکلیف دہ واقعات اور نفسیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ کچھ دوائیں ، بشمول کچھ  مانع ڈپریشن  ، انزال کو متاثر کرسکتی ہیں  اور ریڑھ کی ہڈی یا کمر کو اعصابی نقصان پہنچا سکتی  ہیں۔

 

ذیابیطس کے شکار مرد  جو اعصابی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں ، ان میں الٹا  انزال عام ہے۔ اس کی وجہ مثانے اور مثانے کی گردن میں موجود اعصاب کے ساتھ مسائل  ہوتے ہیں جو انزال کو پیچھے  کی طرف اور مثانے میں بہنے دیتے ہیں۔ دوسرے مردوں میں ، مثانے کی گردن یا  غدود کے آپریشن ،  یا پیٹ کے بعض آپریشنز کے بعد  انزال کی یہ خرابی شروع ہوتی ہے  ۔ اس کے علاوہ ، کچھ دوائیں ، خاص طور پر وہ جن کی وجہ سے موڈ کی خرابی کا علاج ہوتا ہے ، انزال کی  اس پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ عام طور پر اس کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی جب تک کہ وہ تولیدیت میں خرابی پیدا نہ کرئے

 

نامردی کیا ہے؟

نامردی  سے مراد عضو تناسل کا جماع کے لئے تناؤ کی موزوں  کیفیت نہ ہو نا ہے۔ عضو تناسل کی علت کی وجوہات میں خون کے بہاؤ کو متاثر کرنے والی بیماریاں شامل ہیں ، جیسے ایتھروسکلروسیس (شریانوں کی سختی)؛ اعصابی عوارض یعنی  نفسیاتی عوامل ، جیسے دباؤ ، افسردگی ، اور کارکردگی کی بے چینی (جنسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی  اہلیت نہ ہونے کا خوف )؛ اور عضو تناسل کو پہنچنے والی کوئی چوٹ ، کچھ دوائیں اور ایک ایسی حالت جسے پیرونی بیماری (عضو تناسل پہ پیدا ہونےوالا غدود جو اُسے ٹیڑھا کرنے کاسبب بن جاتا ہے )  کہا جاتا ہےبھی عضو تناسل کی ایستادگی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

 

جنسی طلب کے فقدان سےکیا مراد ہے؟

شہوت سے بیزارگی  یا جنسی طلب کے  فقدان سے مرادجنسی خواہش میں کمی  یا عدم دلچسپی ہے ۔ جسمانی یا نفسیاتی عوامل اس جنسی طلب کے فقدان  کی وجہ ہوسکتےہیں ۔ یہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی نچلی سطح سے وابستہ ہے۔ یہ مسئلہ  نفسیاتی عوارض  جیسے پریشانی اور افسردگی ۔ طبی امراض ، جیسے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر،کچھ ادویات اور میاں بیوی کےتعلقات میں موجود تناؤ کے سبب بھی ہوسکتا ہے ۔

 

مرد وں کے جنسی مسائل کی تشخیص کس طرح کی جاتی ہے؟

مردوں کے جنسی مسئلے کی تشخیص کے لئے ، ڈاکٹر ممکنہ طور پر علامات کی مکمل ہسٹری  کےساتھ شروع کرتےہیں ۔ وہ جنسی  خرابی کا علاج کرنے کےلئے ممکنہ طور  کسی  دوسری  طبی پریشانی کا علاج کرنےلئےٹیسٹس کر سکتے ہیں  جو ان کےخیال جنسی مسئلےکی وجہ ہوسکتی ہے ۔ ڈاکٹر آپ کو دوسرے ڈاکٹرز ، بشمول یوروولوجسٹ (پیشاب کی نالی اور مردانہ تولیدی نظام میں ماہر) ، اینڈو کرینولوجسٹ (ہارمونل ایشوز میں ماہر ) ، نیورولوجسٹ (اعصابی نظام میں  ماہر ) ، جنسی معالجوں  کے پاس بھیج سکتا ہے

 

جنسی مسائل کی تشخیص کے لئے کون سے ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں؟

مردانہ جنسی پریشانیوں کی وجوہات اور ان کی سطح کا اندازہ کرنے کے لئے کئی ٹیسٹ استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

 

• بلڈ ٹیسٹ - یہ ٹیسٹ ہارمون کی سطح کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس ، ہائی کولیسٹرول اور دیگر خطرے کے عوامل کی جانچ پڑتال کے لئے بھی کئے جاسکتے ہیں۔

• ویسکولر تشخیص - اس میں عضو تناسل میں خون کے بہاؤ کی جانچ شامل ہے۔ عضو تناسل کو خون فراہم کرنے والی رگوں میں رکاوٹ اس جنسی خرابی کا باعث   ہوسکتی ہے۔

حسی تشخیص - خاص طور پر ذیابیطس نیوروپتی (اعصابی نقصان) کے اثرات کا جائزہ لینے میں مفید ہے ، حسی تشخیص جسم کے کسی خاص حصے میں اعصاب کی طاقت کو ماپتی ہے۔

نیند میں عضوِ تناسل کی تشخیص- یہ ٹیسٹ نیند کے دوران عضو تناسل کے تناؤکی  نگرانی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ اس بات کا تعین کرنے میں مدد کرسکتا ہے کہ آیا آدمی کے عضو تناسل کی خرابی  کی وجوہات  جسمانی ہیں  یا  نفسیاتی۔

 

مردانہ جنسی نقص  کا علاج کس طرح کیا جاتا ہے؟

بنیادی  طور پر  جسمانی یا نفسیاتی پریشانیوں کا علاج کرکے مردانہ جنسی پریشانی کے بہت سے کیسز  کو درست کیا جاسکتا ہے۔ علاج کی حکمت عملی میں درج ذیل شامل ہوسکتے ہیں۔

 

طبی معالجہ۔ اس میں کسی بھی جسمانی پریشانی کا علاج شامل ہے جو مرد کی جنسی خرابی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

 

ادویات - ادویات ، جیسے ٹڈالافل (سیالیس) ، سیلڈینافیل (ویاگرا) یا ورڈینافل (لیویترا) ، عضو تناسل میں خون کے بہاؤ میں اضافہ کرکے مردوں میں جنسی فعل کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں۔ پرومسنٹ ایک ایسی دوا ہے جو قبل از وقت انزال کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہے۔  اسپرے کو عضو تناسل پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں لڈوکوین شامل ہوتا ہے ، جس سے حساسیت کم ہوتی ہے اور انزال کو مزید کنٹرول کی اجازت ہوتی ہے۔

 

ہارمونز – فوطیرون  کی کم سطح والے مرد  ہارمون ضمیمہ (ٹیسٹوسٹیرون  کی متبادل  تھراپی ) سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 

نفسیاتی تھراپی – ماہرکنسلٹنٹ سے تھراپی لینے سے  کسی شخص کو بےچینی ، خوف ، یا جرم کے احساسات کے دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے جس کا اثر جنسی فعل پر پڑ سکتا ہے۔

 

تعلیم اور مواصلات - جنسی  تعلقات کے بارے میں تعلیم حاصل کرنے  سے انسان کو جنسی کارکردگی سے متعلق اپنی پریشانیوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔  اپنی بیوی کےساتھ   بے تکلف جنسی گفتگو،  صحت مند جنسی زندگی میں حائل  بہت سی رکاوٹوں کو دور کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

 

کیا جنسی پریشانیوں سے بچا جاسکتا ہے؟

اگرچہ جنسی پریشانیوں کو نہیں روکا جاسکتا ، لیکن خرابی  کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے سے آپ اس مسئلے  کو  بہتر طریقے سے سمجھنے اور اسے حل کرنےکی کوشش کرسکتے ہیں۔ اچھے جنسی فعل کو برقرار رکھنے میں کچھ اقدامات آپ کی مدد کر سکتے ہیں:

صحت کی کسی بھی  صورتحال کے لئےاپنے ڈاکٹر کے علاج معالجے کی پیروی کریں۔

اپنے شراب نوشی سے مکمل پرہیز کریں۔

تمباکو نوشی چھوڑدیں

کسی بھی جذباتی یا نفسیاتی مسائل جیسے تناؤ ، افسردگی اور اضطراب سے نپٹنےکےلئے ضرورت کے مطابق علاج کروائیں۔

اپنے جیون  ساتھی سے بات چیت میں اضافہ کریں۔

 

مجھے جنسی مسئلے کے بارے میں اپنے ڈاکٹر کو کب فون کرنا چاہئے؟

بہت سے مرد وقتا فوقتا جنسی پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔ تاہم ، جب مسائل مستقل رہتے ہیں ، تو وہ مرد اور اس کی بیوی کے لئے تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں ، اور ان کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر آپ کو مستقل طور پر جنسی فعل کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، تشخیص اور علاج کے لئے اپنے ڈاکٹر سے ملیں۔

مردانہ جنسی پریشانیوں کی وجوہات اور ان کی سطح کا اندازہ کرنے کے لئے کئی ٹیسٹ استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں

• بلڈ ٹیسٹ - یہ ٹیسٹ ہارمون کی سطح کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس ، ہائی کولیسٹرول اور دیگر خطرے کے عوامل کی جانچ پڑتال کے لئے بھی کئے جاسکتے ہیں۔

• ویسکولر تشخیص - اس میں عضو تناسل میں خون کے بہاؤ کی جانچ شامل ہے۔ عضو تناسل کو خون فراہم کرنے والی رگوں میں رکاوٹ اس جنسی خرابی کا باعث   ہوسکتی ہے۔

حسی تشخیص - خاص طور پر ذیابیطس نیوروپتی (اعصابی نقصان) کے اثرات کا جائزہ لینے میں مفید ہے ، حسی تشخیص جسم کے کسی خاص حصے میں اعصاب کی طاقت کو ماپتی ہے۔

نیند میں عضوِ تناسل کی تشخیص- یہ ٹیسٹ نیند کے دوران عضو تناسل کے تناؤکی  نگرانی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ اس بات کا تعین کرنے میں مدد کرسکتا ہے کہ آیا آدمی کے عضو تناسل کی خرابی  کی وجوہات  جسمانی ہیں  یا  نفسیاتی۔

 

مردانہ جنسی نقص  کا علاج کس طرح کیا جاتا ہے؟

بنیادی  طور پر  جسمانی یا نفسیاتی پریشانیوں کا علاج کرکے مردانہ جنسی پریشانی کے بہت سے کیسز  کو درست کیا جاسکتا ہے۔ علاج کی حکمت عملی میں درج ذیل شامل ہوسکتے ہیں۔

طبی معالجہ۔ اس میں کسی بھی جسمانی پریشانی کا علاج شامل ہے جو مرد کی جنسی خرابی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

ادویات - ادویات ، جیسے ٹڈالافل (سیالیس) ، سیلڈینافیل (ویاگرا) یا ورڈینافل (لیویترا) ، عضو تناسل میں خون کے بہاؤ میں اضافہ کرکے مردوں میں جنسی فعل کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں۔ پرومسنٹ ایک ایسی دوا ہے جو قبل از وقت انزال کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہے۔  اسپرے کو عضو تناسل پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں لڈوکوین شامل ہوتا ہے ، جس سے حساسیت کم ہوتی ہے اور انزال کو مزید کنٹرول کی اجازت ہوتی ہے۔

ہارمونز – فوطیرون  کی کم سطح والے مرد  ہارمون ضمیمہ (ٹیسٹوسٹیرون  کی متبادل  تھراپی ) سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

نفسیاتی تھراپی – ماہرکنسلٹنٹ سے تھراپی لینے سے  کسی شخص کو بےچینی ، خوف ، یا جرم کے احساسات کے دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے جس کا اثر جنسی فعل پر پڑ سکتا ہے۔

تعلیم اور مواصلات - جنسی  تعلقات کے بارے میں تعلیم حاصل کرنے  سے انسان کو جنسی کارکردگی سے متعلق اپنی پریشانیوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔  اپنی بیوی کےساتھ   بے تکلف جنسی گفتگو،  صحت مند جنسی زندگی میں حائل  بہت سی رکاوٹوں کو دور کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

کیا جنسی پریشانیوں سے بچا جاسکتا ہے؟

اگرچہ جنسی پریشانیوں کو نہیں روکا جاسکتا ، لیکن خرابی  کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے سے آپ اس مسئلے  کو  بہتر طریقے سے سمجھنے اور اسے حل کرنےکی کوشش کرسکتے ہیں۔ اچھے جنسی فعل کو برقرار رکھنے میں کچھ اقدامات آپ کی مدد کر سکتے ہیں:

صحت کی کسی بھی  صورتحال کے لئےاپنے ڈاکٹر کے علاج معالجے کی پیروی کریں۔

اپنے شراب نوشی سے مکمل پرہیز کریں۔

تمباکو نوشی چھوڑدیں

کسی بھی جذباتی یا نفسیاتی مسائل جیسے تناؤ ، افسردگی اور اضطراب سے نپٹنےکےلئے ضرورت کے مطابق علاج کروائیں۔

اپنے جیون  ساتھی سے بات چیت میں اضافہ کریں۔

مجھے جنسی مسئلے کے بارے میں اپنے ڈاکٹر کو کب فون کرنا چاہئے؟

بہت سے مرد وقتا فوقتا جنسی پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔ تاہم ، جب مسائل مستقل رہتے ہیں ، تو وہ مرد اور اس کی بیوی کے لئے تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں ، اور ان کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر آپ کو مستقل طور پر جنسی فعل کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، تشخیص اور علاج کے لئے اپنے ڈاکٹر سے ملیں۔